DR. QAMAR ABEDI

ڈاکٹر قمر عابدی

 مرثیہ، منقبت اور نوحہ نگاری کا ایک درخشاں باب

کسی بھی قوم کی تہذیبی شناخت صرف اس کے تمدنی آثار، سیاسی فتوحات یا معاشی استحکام سے متعین نہیں ہوتی بلکہ اس کی اصل شناخت ان علمی، فکری اور روحانی شخصیات سے وابستہ ہوتی ہے جو اپنے قلم، اپنے کردار اور اپنے اخلاص کے ذریعے نسلوں کی فکری تربیت کرتی ہیں۔ ایسے اہلِ قلم زمانے کے عارضی تقاضوں کے اسیر نہیں ہوتے بلکہ وہ روایت اور تجدید کے درمیان ایک ایسا پل استوار کرتے ہیں جس پر چل کر تہذیبیں اپنے ماضی سے رشتہ استوار کرتی ہوئی مستقبل کی سمت متعین کرتی ہیں۔

برصغیر کی اسلامی اور بالخصوص شیعی علمی روایت میں بعض خانوادوں نے صدیوں تک علم، ادب، تبلیغِ دین اور ذکرِ اہلِ بیت علیہم السلام کی ایسی خدمت انجام دی ہے جس نے انہیں تاریخ کے صفحات میں دوام بخش دیا۔ انہی جلیل القدر خانوادوں میں ساداتِ بارہ جانسٹھ کا نام نہایت احترام کے ساتھ لیا جاتا ہے، جس نے دینی علوم، شعائرِ حسینی، مرثیہ نگاری، منقبت، نوحہ اور فکری بیداری کے میدان میں گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔

اسی مبارک خانوادے کی ایک درخشندہ علمی و ادبی شخصیت ڈاکٹر قمر عابدی ہیں، جن کی ذات میں نسب کی شرافت، فکر کی گہرائی، تحقیق کی سنجیدگی، تخلیق کی لطافت اور محبتِ اہلِ بیت علیہم السلام کی روحانی حرارت ایک دوسرے سے اس طرح ہم آہنگ دکھائی دیتی ہے کہ ان کی شخصیت محض ایک شاعر یا محقق کی نہیں بلکہ ایک تہذیبی روایت کی نمائندہ معلوم ہوتی ہے۔

خاندانی نسبت اور روحانی وراثت

ڈاکٹر قمر عابدی کا تعلق برصغیر کے ایک نہایت معزز، قدیم اور علمی سادات خانوادے سے ہے، جس کی نسبت حضرت امام علی بن الحسین زین العابدین علیہ السلام تک پہنچتی ہے۔ یہی نسبت ان کی شخصیت کا سب سے روشن روحانی حوالہ ہے۔

یہ خاندان تاریخ میں ساداتِ بارہ جانسٹھ کے نام سے معروف ہے۔ اس خانوادے کی مختلف شاخوں نے برصغیر میں دینِ اسلام کی تبلیغ، علومِ اہلِ بیت علیہم السلام کی اشاعت، عزاداریِ سیدالشہداء علیہ السلام کے فروغ اور اردو و فارسی ادب کی خدمت میں نہایت مؤثر کردار ادا کیا ہے۔ اس خاندان کے افراد اپنے نام کے ساتھ “عابدی” لکھتے ہیں، جو حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کے لقبِ مبارک “عابد” کی نسبت سے اختیار کیا جاتا ہے۔ یہ نسبت صرف ایک خاندانی شناخت نہیں بلکہ عبادت، تقویٰ، صبر، علم، عرفان اور سیرتِ سجادیہ سے وابستگی کی علامت بھی ہے۔

ڈاکٹر قمر عابدی نے اس روحانی اور علمی وراثت کو صرف اپنے نام تک محدود نہیں رکھا بلکہ اپنی پوری علمی و ادبی زندگی کو اسی نسبت کی معنویت سے ہم آہنگ کر دیا۔ ان کی تصنیفی، تحقیقی اور تخلیقی خدمات اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ انہوں نے اپنے آبائی ورثے کو فکر و قلم کے ذریعے زندہ رکھا۔

علمی ماحول اور فکری تشکیل

ڈاکٹر قمر عابدی کی سکونت الہ آباد (موجودہ پریاگراج) میں ہے، جو برصغیر کی علمی، ادبی اور تہذیبی تاریخ کا ایک اہم مرکز رہا ہے۔ اس شہر نے اردو زبان کو بے شمار ادیب، شاعر، ناقد، محقق اور مفکر عطا کیے ہیں اور یہاں کی علمی فضا نے کئی نسلوں کی فکری تشکیل میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔

اسی ماحول میں ڈاکٹر قمر عابدی کی فکری شخصیت پروان چڑھی۔ ان کے مطالعے کی وسعت، تحقیقی ذوق، ادبی شعور اور تاریخی بصیرت نے انہیں صرف روایت کا محافظ نہیں بلکہ روایت کا ناقد، شارح اور مفسر بھی بنا دیا۔ ان کے نزدیک ادب محض اظہارِ جذبات نہیں بلکہ تہذیب کی بقا، تاریخ کے شعور اور انسان کی اخلاقی تعمیر کا مؤثر وسیلہ ہے۔

علمی و تحقیقی خدمات

ڈاکٹر قمر عابدی کا شمار اردو کے ان محققین میں ہوتا ہے جنہوں نے تحقیق کو محض معلومات کی جمع آوری نہیں سمجھا بلکہ اسے تہذیبی شعور کی بازیافت کا ذریعہ بنایا۔

ان کی اہم تصانیف درج ذیل ہیں:

* نوازشات
* تقسیم کے بعد جدید اردو مرثیہ کا تہذیبی و تاریخی مطالعہ (ہندوستان میں) (پی۔ایچ۔ڈی۔ کا تحقیقی مقالہ)
* دو جدید مرثیے
* سرِ تسلیم خم (مجموعۂ منقبت)
* وجۂ بقا (مجموعۂ منقبت)

بالخصوص تقسیمِ ہند کے بعد اردو مرثیے کے تہذیبی اور تاریخی ارتقا پر ان کی تحقیقی کاوش اس میدان میں ایک اہم علمی سرمایہ تصور کی جاتی ہے۔ انہوں نے مرثیے کو صرف ایک شعری صنف نہیں بلکہ تہذیبی حافظے، مذہبی شعور اور اجتماعی تاریخ کے آئینے کے طور پر پیش کیا۔

اس کے علاوہ ان کے متعدد تحقیقی، تنقیدی اور ادبی مضامین اردو کے معتبر رسائل و جرائد میں شائع ہو کر اہلِ علم کے لیے مستند مراجع کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔ ان کی تحریروں میں استدلال کی مضبوطی، اسلوب کی شائستگی، مطالعے کی وسعت اور تجزیے کی گہرائی نمایاں طور پر محسوس ہوتی ہے۔

شاعری، مرثیہ اور نوحہ نگاری

ڈاکٹر قمر عابدی کی ادبی شخصیت کا ایک نہایت اہم پہلو ان کی شاعری، مرثیہ نگاری، منقبت اور نوحہ گوئی ہے۔ ان کا کلام محبتِ اہلِ بیت علیہم السلام کے روحانی احساس سے لبریز ہے، مگر اس کے ساتھ ساتھ وہ فکری وقار، ادبی جمالیات اور تاریخی شعور سے بھی آراستہ ہے۔

ان کے نوحے اور مراثی آج ہندوستان کی متعدد معروف انجمنوں اور ممتاز نوحہ خواں حضرات کی زبان پر جاری ہیں۔ یہ اعزاز کسی بھی شاعر کے لیے محض مقبولیت کی دلیل نہیں بلکہ اس امر کا ثبوت ہے کہ اس کے الفاظ عوام کے احساس، عقیدت اور اجتماعی حافظے کا حصہ بن چکے ہیں۔

ان کی تخلیقات عزاداریِ امام حسین علیہ السلام کی اس زندہ روایت میں شامل ہیں جو نسل در نسل منتقل ہوتی رہی ہے۔ ان کا کلام سامع کو صرف رنج و الم کی کیفیت میں مبتلا نہیں کرتا بلکہ اسے کربلا کے اخلاقی، انسانی اور روحانی پیغام سے بھی روشناس کراتا ہے۔

اعزازات و اعترافات

ڈاکٹر قمر عابدی کی علمی و ادبی خدمات کے اعتراف میں سن ۲۰۱۲ء میں انہیں حکومتِ اتر پردیش کی جانب سے اردو اکادمی ایوارڈ سے نوازا گیا۔ یہ اعزاز ان کی علمی کاوشوں، تحقیقی بصیرت اور اردو ادب، بالخصوص مرثیہ نگاری اور نوحہ گوئی کے فروغ میں ان کی نمایاں خدمات کا سرکاری اعتراف ہے۔

اس کے علاوہ انہیں کیفی اعظمی ایوارڈ سے بھی سرفراز کیا گیا، جو ان کی تخلیقی عظمت اور ادبی مقام کا ایک اور معتبر اعتراف ہے۔

ڈاکٹر قمر عابدی اُن اہلِ قلم میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی خاندانی نسبت، علمی ریاضت، تحقیقی دیانت، ادبی بصیرت اور عشقِ اہلِ بیت علیہم السلام کو ایک ایسی فکری وحدت میں ڈھال دیا ہے جو اردو ادب اور شیعی تہذیب دونوں کے لیے قابلِ قدر سرمایہ ہے۔

ان کی شخصیت اس حقیقت کی شاہد ہے کہ جب نسب کی طہارت، علم کی سنجیدگی، تحقیق کی امانت، ادب کی لطافت اور ذکرِ حسین علیہ السلام کی حرارت ایک وجود میں جمع ہو جائیں تو ایک ایسا قلم جنم لیتا ہے جو محض کتابیں نہیں لکھتا بلکہ تہذیبوں کی روح کو محفوظ کرتا، روایت کو استحکام بخشتا اور آنے والی نسلوں کے لیے فکری چراغ روشن کرتا ہے۔ اسی اعتبار سے ڈاکٹر قمر عابدی عصرِ حاضر کے ان ممتاز اہلِ علم و ادب میں شمار ہوتے ہیں جن کا نام اردو مرثیہ، منقبت، نوحہ نگاری اور تحقیق کے میدان میں ہمیشہ احترام کے ساتھ لیا جائے گا۔

MARASI E DR. QAMAR ABEDI

مراثئ ڈاکٹر قمر عابدی

ظلم (ZULM)

حسن(HUSN)

TOTAL MARSIYE = 2

Total Page Visits: 13 - Today Page Visits: 13

eMarsiya – Spreading Marsiyas Worldwide